اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

کرونا وائرس : سبزیوں کی قیمتیں 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں بحران کے دوران 500روپے تک بکنے والا ٹماٹر 8روپے کلو ، بھنڈی 30 روپے لوکی و بیگن 10 روپے، ہری مرچ 15 روپے کلو، پریشان عوام کیلئے بڑی خوشخبری




کراچی(این این آئی) لاک ڈائون کی وجہ سے سبزیوں کی گھریلو اور کمرشل طلب میں غیرمعمولی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سبزی منڈی میں سبزیوں کی فروخت 70 فیصد تک کم ہوگئی اور سبزیوں کی قیمتیں 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق سبزی منڈی میں اچھی قیمت نہ ملنے کا تمام نقصان سبزی کے کاشت کاروں کو پہنچ رہا ہے جو اب منڈی کو سبزی کی سپلائی کے بجائے تیار فصلوں کو کھیتوں میں ہی تلف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔سبزی منڈی میں سبزیوں کے بیوپاری بھی صورتحال سے پریشان ہیں تاہم
شہر میں خوردہ سطح پر اب بھی سبزیاں مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں اور سبزی منڈی کے مقابلے میں شہر کی دکانوں پر سبزیاں تین گنا زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔کراچی سبزی منڈی میں سبزیوں کے تھوک بیوپاری عرفان انڈس نے بتایا کہ سبزی منڈی میں بھنڈی 30 روپے کلو، ٹماٹر 8 روپے کلو، لوکی اور بیگن 10 روپے کلو، 200 روپے کلو فروخت ہونے والی مرچ 15 روپے کلو فروخت ہورہی ہے، مٹر 55 روپے کلو، پالک 5 روپے کی گڈی دھنیا پودینہ ایک روپے کی دو گڈیاں فروخت ہورہی ہیں۔اسی طرح گوبھی 10سے 12روپے کلو، توری 15روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔ آلو کی تھوک قیمت 25 سے 28روپے کلو کی سطح پر آچکی ہے ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پیاز بھی 30 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔مارکیٹ کمیٹی کے رکن سلیمان خواجہ کے مطابق اس صورتحال میں سبزیوں کے کاشت کار بھاری نقصان کا سامامنا کر رہے ہیں ٹماٹر کی فصل لگانے والے کاشت کاروں نے کھیتوں میں ہی تیار فصل ضایع کردی ہے کیونکہ ترسیل کی لاگت اٹھانے کے بعد منڈی میں 8 روپے کلو فروخت ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں الٹا کرایہ اپنی جیب سے دینا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اضافی پیداوار کو اس وقت کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کرکے فارمرز کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے لیکن سندھ میں اسٹوریج کی سہولت نہیں ہے اور کراچی میں اسٹوریج کی گنجائش پہلے ہی ختم ہوچکی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں