اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

پیر، 13 اپریل، 2020

حامد میر کی سندھ کی فوٹیج کو پنجاب کی فوٹیج بنا کر پروپیگنڈا کرنیکی ناکام کوشش


حامد میر نے سندھ کی فوٹیج کو پنجاب کی پولیس بناکر پیش کردیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ فوٹیج ملتان کی ہے جہاں احساس پروگرام کی رقوم کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی لیکن سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کی وردی اور سندھ بولنے والوں کی نشاندہی پر حامد میر کے پروپیگنڈا کا پردہ چاک کردیا۔
اپنے ٹویٹ میں حامد میر نے لکھا کہ ملتان میں احساس پروگرام کے تحت رقوم کی ادائیگی کے دوران بھگدڑ سے خاتون کی ہلاکت
ملتان میں احساس پروگرام کے تحت رقوم کی ادائیگی کے دوران بھگدڑ سے خاتون کی ہلاکت، کراچی میں درجنوں نمازیوں کا خاتون ایس ایچ او پر حملہ اور امداد کے لئے جگہ جگہ ہجوم اکٹھا ہوناافسوسناک ہے عوام اپنی بربادی کو دعوت مت دیں امداد ضرور لیں اور دیں لیکن امداد کے نام پر وبا نہ پھیلائیں
5,808 people are talking about this

حامد میر نے اپنی فوٹیج میں یہ بھی کہا کہ کراچی میں درجنوں نمازیوں کا خاتون ایس ایچ او پر حملہ لیکن یہ فوٹیج کراچی کی بھی نہیں تھی جس میں خاتون ایس ایچ او پر حملہ ہوا تھا۔ اس فوٹیج میں پولیس جس وردی میں ملبوس نظر آرہی ہے وہ پنجاب کی نہیں سندھ کی ہے
شہباز گل نے حامد میر کی تصحیح کروائی کہ محترم میر صاحب۔ یہ سندھ کی فوٹیج ہے پنجاب پولیس کی یونیفارم تبدیل ہو چکی ہے۔

جس پر حامد میر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جناب میری ٹوئٹ کو ذرا غور سے پڑھ لیں میں نے کہیں نہیں کہا کہ یہ پنجاب پولیس ہے ایک عمومی بات کی ہے ملتان کے ساتھ ساتھ کراچی کے واقعے کا بھی ذکر کیا ہے اور گذارش کی ہے کہ ہجوم سے گریز کریں لیکن آپ اصل پیغام پر توجہ دینے کی بجائے سندھ اور پنجاب کی بحث میں چلے گئے
جناب میری ٹوئٹ کو ذرا غور سے پڑھ لیں میں نے کہیں نہیں کہا کہ یہ پنجاب پولیس ہے ایک عمومی بات کی ہے ملتان کے ساتھ ساتھ کراچی کے واقعے کا بھی ذکر کیا ہے اور گذارش کی ہے کہ ہجوم سے گریز کریں لیکن آپ اصل پیغام پر توجہ دینے کی بجائے سندھ اور پنجاب کی بحث میں چلے گئے https://twitter.com/shabazgil/status/1248635408889643009 
2,998 people are talking about this

سوشل میڈیا صارفین حامد میر کے جواب سے غیر متفق نظر آئے اور کہا کہ اب آپ غلط بیانی کررہے ہیں، آپ نے خود اپنے ٹویٹ میں ملتان لکھا ہے۔ اگر ملتان کی ویڈیو تھی تو ملتان کی ویڈیو لگاتے، اگر کراچی کی ویڈیو تھی تو کراچی کی ویڈیو لگاتے۔ آپ نے جان بوجھ کر پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا صارف خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ میر صاحب آپ نے ملتان کے نام کے ساتھ سندھ کے واقعہ کی ویڈیو جوڑ دی مگر شرمندہ ہونے کو تیار نہیں
عدیل جعفری نے حامد میر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت چالاکی کے ساتھ سندھ کی ویڈیو لگائی اور شروع ملتان سے کیا۔ بعد میں کہیں چھوٹا سا کراچی بھی لکھ دیا۔ سر جی عوام کی اکثریت نے 2018 میں ایسے ڈرامے بازوں کو باہر نکال دیا ہے۔ اب عوام ایسی دو نمبریوں میں نہیں آتی۔

واضح رہے کہ حامد میر اس سے پہلے بھی ایسا کرچکے ہیں جب انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کو پنجاب کا حصہ بناکر پنجاب حکومت پر یہ الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان سے تین صحافی گرفتار کرلئے کیونکہ پنجاب حکومت عوام سے کچھ چھپانا چاہتی ہے بعد میں حامد میر کو احساس ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پنجاب کا نہیں خیبرپختونخوا کا حصہ ہے تو اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا ۔
اس سے قبل حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کیساتھ مل کر میوہسپتال میں ایک مریض کی ہلاکت سے متعلق بھی پروپیگنڈا کو ہوا دینے کی کوشش کی جب حامد میر نے دعویٰ کیا کہ ایک مریض ونٹی لیٹر مانگ رہا تھا لیکن اسے رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا ہے بعدازاں اسکی ہلاکت ہوگئی۔
جب حقیقت کھلی تو معلوم ہوا کہ وہ مریض بار بار بھاگنے کی کوشش کررہا تھا اور گھر جانے کی ضد کررہا تھا جس پر انتظامیہ نے اسے روکا تاکہ باقی افراد کرونا سے متاثرہ نہ ہوں ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں