اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

منگل، 21 اپریل، 2020

’ایک بیرل تیل سے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن مہنگی ہے‘


خام تیل کی قیمتیں کم یا زیادہ ہونا تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں البتہ اس بار
 انوکھا معاملہ یوں ہوا کہ امریکی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح تک پہنچ کر منفی زون میں داخل ہو گئی۔
جوں اس حقیقت سے متعلق اطلاعات اور اس کے نتائج کا ذکر سامنے آنا شروع ہوا تو سوشل میڈیا صارفین نے ٹرینڈز لسٹیں تیل اور اس کی قیمت سے متعلق گفتگو سے بھرنا شروع کر دیں۔

پاکستان اور انڈیا سمیت دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے کہیں معاملے کی اصل حقیقت سے دوسروں کو باخبر کیا تو کہیں حس مزاح نے ہنسی اور قہقہوں کا سامان کرنے کی کوشش کی۔
منال خان نامی صارف نے معاملے کے تکنیکی پہلوؤں اور اسباب و وجوہات کے ذکر کے بجائے عام فرد کی دلچسپی سے متعلق تبصرے میں ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’جب آپ کو اندازہ نہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے البتہ نمبرز آپ کے بجٹ کے مطابق ہوں۔‘
علی سید نامی صارف نوجوانوں خصوصا فلموں و ڈراموں سے دلچسپی رکھنے والے صارفین کا نقطہ نظر سامنے لائے۔ انہوں نے لکھا ’تیل کے ایک بیرل سے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن (ماہانہ) مہنگی ہو چکی ہے۔‘
معیشت سے متعلق امریکی پروفیسر سٹیو ہینک نے لکھا ’آج امریکی تیل مارکیٹ تقریبا 18 ڈالر فی بیرل سے گر کر منفی 40 ڈالر تک پہنچ چکی۔ کیا ہو رہا ہے؟ تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک لبالب بھرے ہیں۔ اس دن کو اپنے کیلنڈر پر نشان زد کر لیں کیونکہ آپ دوبارہ ایسا دن نہیں دیکھ سکیں گے۔‘
انڈین سیاستدان سری واتسا نے معاملے پر تبصرہ کیا تو گزشتہ چند برسوں میں تیل قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود انڈین مارکیٹ میں قیمت نہ بدلنے کو اپنا موضوع بنایا۔ انہوں نے لکھا ’ستمبر 2013 میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت فی بیرل 108 ڈالر تھی اور دہلی میں فی لٹر 76 روپے کا تھا، اب فی بیرل صفر ڈالر قیمت ہے تو بھی دہلی میں فی لٹر 70 روپے کا ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت صفر بھی رہی تو ہمارے وزیراعظم لوگوں کو سستا تیل دینے کے بجائے ٹیکس جمع کرنے کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔‘
گفتگو کے دوران کچھ صارف ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی حکومتوں کو ٹپ یا بخشش دینا شروع کر دی۔ الامین نامی ایک صارف نے لکھا ’ہر کام کا ایک دن ہوتا ہے، بالآخر ہمیں بھی کچھ ایسا مل گیا جو پانچ نیرا میں خریدا جا سکتا ہے۔ نائجیرین حکومت! مجھے 50 بیرل تیل خریدنا ہے، دو کوبو باقی بچیں گے وہ آپ رکھ لیں۔‘
انڈین صارف میہر وورا نے اسے اپنے آنی والی نسلوں کو سنائی جانے والی کہانی سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ’جب امریکی تیل مارکیٹ منفی 30 ڈالر پر پہنچی تو میں وہیں تھا۔ ایک دن میں 266 فیصد گری تھی۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب وبا کی وجہ سے پوری دنیا لاک ڈاؤن میں تھی۔‘
روہت ساجوان نامی صارف نے موقع غیمت جانا تو لگے ہاتھوں سودا کر ڈالنے کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا ’مستقبل کے لیے دس ڈالر کے خام تیل کا آرڈر دیا ہے۔‘
امریکی تیل مارکیٹ کے متاثر ہونے کا ذکر کرنے والے کچھ صارفین موجودہ صورتحال میں درکار اشیا کی قیمتوں کے ساتھ تیل قیمتوں کا تقابل بھی کرتے رہے۔
پاکستانی ٹیلی ویژن میزبان رحمان اظہر نے صورت حال کی درست نشاندہی کی ذمہ داری اپنے سر لی تو ٹویٹ میں معاملے کی حقیقت سمجھانے کی کوشش کی۔
انہوں نے لکھا ’یہ امریکی خام تیل کی مارکیٹ کے بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ انڈیکس (ڈبلیو ٹی آئی) کی صورت حال ہے عالمی تیل مارکیٹ کا بینچ مارک برینٹ اب بھی 25 ڈالر سے زائد قیمت رکھتا ہے۔ یہ مئی کے سودوں سے متعلق قیمت تھی، جون کے سودوں کی قیمت 22 ڈالر ہے۔‘
سوشل میڈیا صارفین سنجیدگی اور مزاح کے رنگ لیے خام تیل کی قیمت گرنے اور اس کے اثرات سے متعلق گفتگو میں مصروف ہوئے تو پانچ سے زائد ایسے ٹرینڈز بنا ڈالے جو صرف تیل قیمتوں میں کمی سے متعلق تھے۔





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں