اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

ایک ہی دن میں مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کااضافہ، اسمبلرز کی طرح مقامی ڈیلرز کو بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے،وفاقی وزیر حماد اظہر سے مطالبہ




اسلام آباد(آن لائن)آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ہمارا ایک مرتبہ پھر حکومت سے مطالبہ ہے کہ مقامی ڈیلرز کو استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے،جیسا کہ اسمبلرز کو اجازت ہے،ایسا نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی نئی پالیسی بنانا ہوگی،مقامی اسمبلرز حکومتی پالیسیوں کا غلط استعمال کررہے ہیں،صر ف آج کے دن مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کااضافہ کردیا گیاہے جو کہ صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ بات آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کے نام لکھے
گئے ایک خط میںکہی گئی ہے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے دستخط سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ آٹو موبائل انڈسٹری تین بڑے اسمبلرز کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور ای ڈی بی کے ساتھ ملکر پالیسیاں تیار کی جارہی ہیں،جس سے ملک کے عوام کو اپنی مرضی اور سکت کے مطابق گاڑی خریدنے سے محروم رکھا جارہا ہے۔ان اسمبلرز کی جانب سے گزشتہ 25سے30سال سے ایڈوانس بکنگ اور طویل ڈیلیوری کے عمل کے چکر میں گھسیٹا جارہا ہے اور مسلسل قیمتوں میں اضافہ اور مناپلی پر مبنی مارکیٹ اقدامات کئے جارہے ہیں۔مثال کے طور پر صنعت کو 50فیصد فروخت میں نقصان کا سامنا ہے۔انڈس موٹرز کی نئی ٹویوٹا یارس گاڑی ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی لیکن انہوں نے دو مرتبہ قیمتیں بڑھا دی ہیں۔مجموعی طور پر ان تمام اسمبلرز نے گزشتہ 2سالوں میں اپنی قیمتیں دوگنا کردی ہیں حتی کہ جب ڈالر کی شرح150روپے سے کم آچکی تھی۔30سال بعد انہوں نے ایک بھی فعال پرزہ تیار نہیں کیا اور سی کے ڈی۔ ایس کے ڈی پارٹس پر لاکھوں ڈالرز خرچ کردئیے ہیں۔ان کے نقصانات خود ساختہ ہیں اور اس کا مقصد حکومت پر ٹیکسوں میں اضافے ،نئے پرزہ جات اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے۔گزشتہ سال سازوسامان کی سکیم پر پابندیوں کی وجہ سے 100ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم حکومت سے باربار مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ اسمبلرز کی طرح مقامی ڈیلرز کو بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے۔ایسا نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی نئی پالیسی بنانا ہوگی۔پالیسی کو از سرنو مرتب کرنا ہوگا اور تمام پاکستانی بزنس مین اور عوام کو اپنا روزگار کمانے کے برابری کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ اچھی کوالٹی اور پہنچ میں گاڑیاں خرید سکیں۔مقامی گاڑیوں کی کوالٹی اور حفاظتی معیار سب کے سامنے ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ملاقات کا موقع دیا جائے تاکہ مقامی اسمبلرز کی جانب سے حکومتی پالیسیوں کے غلط استعمال کی روک تھام میں آپ کو تجاویز اور معاونت فراہم کی جاسکے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے۔اس حوالے سے ان کے غلط اقدامات کو روکنا ہی واحد راستہ ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں