اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

بدھ، 27 مئی، 2020

ایک بار پھر لاک ڈائون کا خطرہ


لاہور سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی،مریضوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ لاک ڈائون میں نرمی اور عید سے پہلے بازاروں میں رش بتایا جارہا ہے۔لاہوریوں نے  کورونا وائرس کے خطرے کو  نظرانداز کر دیا، شہری عید کے دوسرے روز رات گئے سڑکوں پر بغیر احتیاطی تدابیر اختیار کیے نکل آئےاور مختلف فوڈ پوائنٹس اور مقامات پر تفریح کرتے نظر آئے۔
لاہوری عید منانے گھروں سے نکل پڑے، مختلف پوائنٹس پر فیملیز اور شہریوں کا رش دکھائی دیا ،شہریوں نے عید کے دنوں میں کرونا ایس او پیز کو بھی ہوا میں اُڑا دیا،مختلف پوائنٹس پر شہری، کھانوں میں مصروف رہے، سماجی فاصلہ، ماسک سمیت تمام ایس او پیز نظراندازکر دیئے گئے،بڑی تعداد میں شہریوں کے نکلنے سے سڑکوں پر ٹریفک میں اضافہ دکھائی دیا۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے عید سے قبل کاروبار کھولنے کی اجازت دی اور اب عید کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی شاید سمجھ رہے ہیں کہ کورونا صرف عید تک تھا، اگر ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو بہت بڑا بحران پیداہوسکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان سے کورونا کب ختم ہوگا، کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، پاکستان میں اس وقت تقریباً 37 ہزار 700 کورونا کے مریض زیر علاج ہیں۔ پاکستان میں کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں 56 ہزار349 کورونا کے کنفرم کیسز ہیں، اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیاتو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑسکتا ہے۔
ظفر مرزا نے کہا کہ بازاروں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں، ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اس طرح نہیں بڑھا سکے جس طرح چاہتے تھے، ‏عوام سے کہتا ہوں بیماری کو روکنےکا سبب بنیں، پھیلانے کا نہیں، ‏ عید پر مشاہدہ رہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے پر وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تضاد نظر آتا ہے۔ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا لوگوں سے احتیاط اور لاک ڈاؤن کا کہہ رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر تمام کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی ہے کہ اگر کاروبار نہ کھلے تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں