اردو خبریں اور تبصرے

تازہ تر ین

loading...

بدھ، 27 مئی، 2020

طیارہ حادثے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز


 طیارہ حادثے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ، طیارہ ساز کمپنی ائر بس کی ٹیم آج کراچی پہنچے گی، ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ ائیربس نےائیرکریش کی تحقیقات میں ماہر10 رکنی تکنیکی ٹیم کوتحقیقات سےمنسلک کردیا گیا ہے.

کراچی میں طیارہ حادثہ جہاز کا ملبہ تاحال نہ اٹھایا جاسکا، تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ روز جائے حادثہ اور رن وے کا دورہ کیا.طیارہ ساز کمپنی ائر بس کی ٹیم آج کراچی پہنچے گی اور پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی جگہ کا دورہ کرے گی جس کے بعد ملبہ کو مکمل طور پر ہٹایا جائے گا.

ماڈل کالونی کا متاثرہ علاقہ تاحال سیل ہے. فوج ،رینجرز اور پولیس کے جوان تعینات ہیں. کسی کو جانے کی اجازت نہیں. ترجمان پی آئی اے کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کررہے ہیں.
پائلٹس کی عالمی تنظیم نے طیارہ حادثہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ائیر کموڈورمحمد عثمان غنی کو خط لکھا ہے جس میں سری لنکا کے ماہر تفتیش کار کیپٹن شونتھا پیڈریس کو تحقیقات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے.
دوسری جانب فیصل ایدھی کے مطابق ایدھی سرد خانے میں موجود مزید 19 میتیں لواحقین شناخت کے بعد اپنے ساتھ لے گئے. میتوں کی ڈی این اے رپورٹ آنا ابھی باقی ہیں .
اس سے پہلے حکومتی تحقیقاتی ٹیم نے رن وے پر لگے کیمرے سے لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے. فوٹیج میں دیکھا گیا کہ کپتان نے طیارے کے گئیر ڈاون نہیں کیئے . رن وے ایل 25 پر طیارے کے انجن کے رگڑنے کے نشانات بھی پائے گئے ہیں. سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ جہاز کا پہلا انجن زمین سے ٹکرایا پھر دوسرا دونوں انجن زمین سے ٹکرانے کے بعد طیارہ دوبارہ فضا میں بُلند ہوگیا۔
سٹیلایٹ وڈیو میں دوبارہ لینڈگ سے قبل پائلٹ نے انجن فیل ہونے کی اطلاع دی جس پر کنٹرول ٹاور نے پوچھا کہ کیا آپ لینڈنگ کریں گے رن وے آپ کیلئے خالی ہے, پائلٹ نے جواب دیا راجر, اسی دوران پائلٹ نے مے ڈے مے ڈے 8303 کی ایمرجنسی کال دی اور طیارہ ماڈل کالونی میں آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا.



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مزید خبریں